Categories Education & TrainingUncategorized

لوڈو کھیلنے کا حکم

ازقلم : حسان بن عبدالغفار

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے مسلم معاشرے میں لوڈو کھیلنے کا رواج عام ہوتا چلا جا رہا ہے جب کہ شریعت کی نظر میں یہ کھیل نہایت ہی ناپسندیدہ ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ “.( مسلم ۔ كِتَابٌ : الشِّعْرُ | بَابٌ : تَحْرِيمُ اللَّعِبِ بِالنَّرْدَشِيرِ : 2260).
“جس نے نردشیر ( چوسر ) کھیلا گویا اس نے اپنا ہاتھ سور کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا”.

نرد شیر کا مطلب

نرد عربی زبان کا لفظ ہے
المعجم الوسيط میں ہے :
النَّرْدُ : لعبة ذات صندوق وحجارة وفصَّين، تعتمد على الحظ وتُنْقل فيها الحجارة على حسب ما يأتي به الفَصُّ. (المعجم الوسيط” (2/912)
“نَردُ : چوسر کی طرح کا ایک کھیل جو دوہری بساط پر کھیلا جاتا ہے ایک ڈبیا میں کنکریاں یا پلاسٹک کی گوٹیں ہوتی ہیں اور دو نگ ہوتے ہیں جن کو ہلا کر جیسا نگ نکل اتا ہے اس کے مطابق کنکر یاں یا گوٹیں اگے بڑھائی جاتی ہیں”.

شير : کا معنی ” خوبصورت “

امام نووی رحمہ الله فرماتے ہیں :
” علماء كا كہنا ہے: النردشير يہ نرد ہے، يہ حديث شافعى اور جمہور علماء کے نزدیک نرد كھيل کے حرام ہونے كى دليل ہے….. اور كا معنى يہ ہے كہ: اس نے خنزير كا گوشت كھانے كى حالت ميں اپنا ہاتھ رنگا، يہ اس كى حرمت كى تشبيہ ہے جس طرح خنزير حرام ہے اسى طرح يہ بھى حرام ہے”.( دیکھئے : عون المعبود ،والمنھاج فی شرح صحیح مسلم بن حجاج)

*مزید احادیث :

1 – ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ .(أبو داود :4938، وابن ماجة : 3762 ، وحسنه الألباني في ” صحيح الجامع ” رقم : 6529) .
” جس نے نرد(لوڈو) كھيلى تو اس نے اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى نافرمانى كى “

2 – حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ :” أنها بلغها أن أهل بيت في دارها- كانوا سكاناً فيها- عندهم نرد، فأرسلت إليهم : ” لئن لم تُخرجوها لأخرجنكم من داري”، وأنكرت ذلك عليهم .( الادب المفرد، وحسنه الألباني في ” صحيح الأدب المفرد ” برقم (1274).
” ان تک یہ بات پہونچی کہ اہل خانہ جو ان کے گھر میں رہتے تھے ان کے پاس “نرد”(لوڈو) ہے تو انھوں نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ : اگر تم لوگوں نے اسے گھر سے نہیں نکالا تو میں تم لوگوں کو ضرور اپنے گھر سے نکال دوں گی اور اس بات پر انھوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا “.

3 – كلثوم بن جبر کہتے ہیں”خطبنا ابن الزبير، فقال: ” يا أهل مكة! بلغني عن رجال من قريش يلعبون بلعبة يقال لها: النردشير ، وإني أحلف بالله : لا أوتى برجل لعب بها إلا عاقبته في شعره وبشره ، وأعطيت سلبه لمن أتاني به”. الادب المفرد، وحسنه الألباني في ” صحيح الأدب المفرد” برقم (1275) .
“ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :
اے اہل مکہ! مجھ تک یہ بات پہونچی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ ” نردشیر” نامی کھیل کھیلتے ہیں اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ایسا آدمی میرے پاس لایا گیا جس نے” نرشرید ” (لوڈو)کھیلا ہو تو میں اس کے بال کھینچوں گا اور چمڑی بھی اتاروں گا اور اس کا سامان اسے دے دوں گا جو اسے لائے گا”.

4 – نافع کہتے ہیں :أنَّ عبدَ اللهِ بنَ عمرَ كان إذا وجدَ أحدًا من أهلِهِ يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ، ضربَهُ وكَسَرَها. (الادب المفرد، وحسنه الألباني في ” صحيح الأدب المفرد” برقم (1273) .
” ابن عمر رضی اللہ عنہ جب اپنے گھر والوں میں سے کسی کو “نرد” (لوڈو)کھیلتے ہوئے پا جاتے تو اسے مارتے اور ساتھ ہی اسے توڑ بھی دیتے تھے “.

ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا کہ لوڈو اور ساتھ ہی کیرم بورڈ و شطرنج وغیرہ کا کھیلنا ایک ناپسندیدہ عمل اور شیطانی کام ہے لھذا اس طرح کے کھیلوں سے اجتناب ضروری ہے ۔۔۔۔۔

Continue reading
Categories Uncategorized

NRC/CAA

این آرسی اور سی اے بی قرآن کی نظر میںNRC/CAA

 حسان بن عبد الغفار  سنابلی

  • ……………………………………………
    این آر سی یعنی : National Register of Citizens اور سی اے بی یعنی : Citizenship amendment bill کی وجہ سے خوف اور بد امنی کا جو بادل ہمارے سروں پر امنڈ رہا ہے در حقیقت وہ اللہ کی طرف سے آزمائش یا اس کا عذاب ہے ۔
    چنانچہ قرآن مقدس میں اللہ رب العزت فرماتا ہے : ” وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَیۡءࣲ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡصࣲ مِّنَ ٱلۡأَمۡوَ ٰ⁠لِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَ ٰ⁠تِۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِینَ ” .( البقرة : 155).
    ” اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے، اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے “.

لھذا ملک بھر میں جو خوف اور بدامنی کا ماحول ہے بعید نہیں کہ وہ رب العالمین کی طرف سے آزمائش ہو ۔

جبکہ دوسرے مقام پر رب العزت فرماتا ہے : ” وَلَنُذِیقَنَّهُم مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَدۡنَىٰ دُونَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ یَرۡجِعُونَ “. ( السجدة : 21).
” بالیقین ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزا چکھائیں گے ، تاکہ وہ لوٹ آئیں “.

یعنی اللہ رب العالمین آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے دنیا کے اندر ہی قتل وغارت، قید وبند اور جلاء وطنی وغیرہ کی صورت میں چھوٹے عذاب کا مزہ ضرور چکھائے گا تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کر کے دین وایمان اور حق وانصاف کی طرف لوٹ آئیں ۔
لھذا ہو سکتا ہے کہ این آر سی اور سی اے بی عذاب الہی کی ایک شکل ہو ۔

                  وجوہات : 

قرآن کی نظر میں ان کے پیچھے انسانوں کے کرتوت کارفرماں ہیں، یعنی خود انسان اور اس کا عمل ہی ان آزمائشوں اور پریشانیوں کا ذریعہ اور سبب ہے ۔
جیسا کہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے : ” وَمَاۤ أَصَـٰبَكُم مِّن مُّصِیبَةࣲ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَیۡدِیكُمۡ وَیَعۡفُوا۟ عَن كَثِیرࣲ “. ( الشوري : 30).
” تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے “.

ان آزمائشوں، عذابوں اور مصیبتوں سے بچنے کا قرآنی نسخہ :

1 – صبر اور تقوی :

ان دونوں کو اختیار کرنے سے دشمن کی ہر چال ناکام ہو جائے گی اور وہ خود اپنے جال میں پھنس جائیں گے ۔
جیسا کہ اللہ فرماتا ہے :

” وَإِن تَصۡبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ لَا یَضُرُّكُمۡ كَیۡدُهُمۡ شَیۡـًٔاۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا یَعۡمَلُونَ مُحِیطࣱ “. ( آل عمران : 120).
” تم اگر صبر کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو ان ( دشمنوں) کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہ دے گا ،اللہ تعالٰی نے ان کے اعمال کا احاطہ کر رکھا ہے “.
یعنی : یعنی اگر ہم صبر کا دامن تھام لیں اور ہر ہر قدم اللہ سے ڈرتے ہوئے رکھیں ،اس کے احکام کو بجا لائیں اور منہیات سے اجتناب کر لیں تو یہ امن وامان اور اخوت کے دشمن جو آج ہم کو ہمارے ہی ملک سے نکالنے کی سازشیں کر رہے ہیں اور ہماری ہی سرزمین میں ہمارا ہی قافیہ تنگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ان کی کوئی سازش، کوئی مکر، کوئی چال، کوئی سیاست اور کوئی فریب ہم کو معمولی نقصان بھی نہیں پہونچا سکتا ہے، کیونکہ یہ اس احکم الحاکمین کا وعدہ ہے جو کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ” وَلَن یُخۡلِفَ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥۚ “. ( الحج : 47). اللہ ہرگز اپنے وعدے کو ٹالتا نہیں ہے ۔
جبکہ دوسرے مقام پر فرماتا ہے : ” وَإِذۡ یَمۡكُرُ بِكَ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ لِیُثۡبِتُوكَ أَوۡ یَقۡتُلُوكَ أَوۡ یُخۡرِجُوكَۚ وَیَمۡكُرُونَ وَیَمۡكُرُ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَیۡرُ ٱلۡمَـٰكِرِینَ “. ( الأنفال : 30).
” اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کر دیں اور وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے “.
مزید فرماتا ہے کہ اگر تمھارے دشمن تمھارے ساتھ سازشیں کر رہے ہیں تو تم ان کی سازشوں سے گھبراو نہیں بلکہ صبر اور تقوی اختیار کرو اور یہ جان لو کہ تمھارا رب دشمنوں سے تیز تدبیر کرنے والا ہے : ” قُلِ ٱللَّهُ أَسۡرَعُ مَكۡرًاۚ “. ( يونس : 21).
” کہہ دو کہ اللہ چال چلنے میں تم سے تیز ہے “. اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ دشمنوں کو ان ہی کی جال اور مکر میں پھنسا دیتا ہے : ” وَلَا یَحِیقُ ٱلۡمَكۡرُ ٱلسَّیِّئُ إِلَّا بِأَهۡلِهِۦۚ فَهَلۡ یَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلۡأَوَّلِینَۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِیلࣰاۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِیلًا “. ( فاطر : 43).
” اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے تو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے ۔ سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے “.

نوٹ : صبر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں بلکہ دشمنوں کے چال کو ناکام کرنے کے لئے ہم سے جو بھی جائز کام ہو سکے اسے ضرور کر گزریں ۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “.

ٱلۡـَٔـٰنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمۡ وَعَلِمَ أَنَّ فِیكُمۡ ضَعۡفࣰاۚ فَإِن یَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةࣱ صَابِرَةࣱ یَغۡلِبُوا۟ مِا۟ئَتَیۡنِۚ وَإِن یَكُن مِّنكُمۡ أَلۡفࣱ یَغۡلِبُوۤا۟ أَلۡفَیۡنِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِینَ “. ( الأنفال : 66).
” اچھا اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں ناتوانی ہے پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار ہونگے تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے “.

جبکہ دوسرے مقام پر فرماتا ہے :

یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِذَا لَقِیتُمۡ فِئَةࣰ فَٱثۡبُتُوا۟ وَٱذۡكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِیرࣰا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ . وَأَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَـٰزَعُوا۟ فَتَفۡشَلُوا۟ وَتَذۡهَبَ رِیحُكُمۡۖ وَٱصۡبِرُوۤا۟ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِینَ “. ( الأنفال : 45 -46).
” اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو، اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہار رکھو یقیناً اللہ تعالٰی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے “.

ان دونوں آیتوں میں دشمنوں سے مڈبھیڑ کا تذکرہ کیا گیا ہے ،اور یہ بتلانا تحصیل حاصل ہے کہ جنگ میں اور دشمنوں سے مڈبھیڑ میں ہاتھ پر ہاتھ کر بیٹھا نہیں جاتا ہے بلکہ ضرب وحرب سے کام لیا جاتا ہے پھر بھی اللہ رب العزت نے پہلی آیت میں سو مجاہدین کا تذکرہ صفت ” صبر ” سے متصف فرما کر کیا ہے جبکہ دوسری آیت میں دشمنوں سے مڈبھیڑ کے درمیان ” صبر ” اختیار کرنے کا حکم دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ” صبر ” جائز عمل اور اقدام کے منافی نہیں ہے ۔

2 – ایمان اور عمل صالح :

ان دونوں کو اختیار کرنے سے زمین پر خلافت ملے گی ساتھ ہی خوف اور بدامنی دور ہو جائے گی اور دین اسلام مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے گا ۔

جیسا کہ قرآن کہتا ہے : ” وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمۡ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِی ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَیُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِینَهُمُ ٱلَّذِی ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنࣰاۚ یَعۡبُدُونَنِی لَا یُشۡرِكُونَ بِی شَیۡـࣰٔاۚ وَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَ ٰ⁠لِكَ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡفَـٰسِقُونَ “. ( النور : 55 ).
” تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالٰی وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو وہ امن امان سے بدل دے گا ، بس وہ صرف میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے “.

3 – استغفار :

اس کی وجہ رب العزت عذاب نہیں دے گا

جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتا ہے : ” وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِیُعَذِّبَهُمۡ وَأَنتَ فِیهِمۡۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ یَسۡتَغۡفِرُونَ “. ( يونس : 33).
” اور اللہ تعالٰی ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں “.
یعنی اگر ہم سب مل کر رب العالمین سے استغفار کریں گے تو وہ کبھی بھی ہمیں کسی بھی نوعیت کے عذاب سے دوچار نہیں کرے گا ۔

4 – اتحاد واتفاق :
اس کی وجہ سے ہماری قوت میں اضافہ ہوگا اور ہم دشمنوں کا مقابلہ ہر محاذ میں آسانی کے ساتھ کر سکیں گے ۔

جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتا ہے : ” وَٱعۡتَصِمُوا۟ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِیعࣰا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ۚ وَٱذۡكُرُوا۟ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَیۡكُمۡ إِذۡ كُنتُمۡ أَعۡدَاۤءࣰ فَأَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوبِكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم بِنِعۡمَتِهِۦۤ إِخۡوَ ٰ⁠نࣰا وَكُنتُمۡ عَلَىٰ شَفَا حُفۡرَةࣲ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنۡهَاۗ كَذَ ٰ⁠لِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ ءَایَـٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ “. ( آل عمران : 103).
” اللہ تعالٰی کی رسّی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو ، اور اللہ تعالٰی کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ، تو اس نے تمہارے دلوں میں اُلفت ڈال دی ، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے ، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچالیا ۔ اللہ تعالٰی اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ “.
ظاہر سی بات ہے کہ اگر الگ الگ رہو گے تو کچل دئے جاؤ گے اور اگر ایک ہو گئے تو پہاڑ بن جاؤ گے جسے توڑنے والے خود ہار تھک کر بیٹھ جائیں گے ۔

5 – دعا :
دعا مؤمن کا ہتھیار ہے، اللہ فرماتا ہے : ” أَمَّن یُجِیبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَیَكۡشِفُ ٱلسُّوۤءَ “. ( النمل : 62).
” بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے ،کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے ؟
یقینا اللہ!
لھذا حکومت کے ہاتھوں ستائے ہوئے کروڑوں لوگ اگر رب العالمین کے سامنے سر جھکا دیں تو ان مصیبتوں کو ہٹنے میں دیر نہیں لگے اور اگر ان کروڑوں مظلموں میں سے کسی ایک بھی مظلوم کی آہ عرش الہی سے ٹکرا گئی تو پورے روئے زمین میں اقتدار پر قابض ظالموں کو کوئی پناہ دینے والا نہیں ملے گا ، کیونکہ : ” وَكَذَ ٰ⁠لِكَ أَخۡذُ رَبِّكَ إِذَاۤ أَخَذَ ٱلۡقُرَىٰ وَهِیَ ظَـٰلِمَةٌۚ إِنَّ أَخۡذَهُۥۤ أَلِیمࣱ شَدِیدٌ “. ( هود : 102).
” تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وہ بستیوں کے رہنے والے ظالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے “.
جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ “.( البخاري : 1496).
” مظلوم کی بدعا اور آہ سے بچو، کیونکہ اس کے اور رب العالمین کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا ۔

خلاصہ یہ کہ ہم تمام ایسے ناگفتہ بہ حالات میں جائز اقدام کے ساتھ ساتھ صبر اور تقوی کو اختیار کریں اور ایمان وعمل صالح کے ساتھ اللہ رب العزت سے بکثرت استغفار کریں ،یقینا اللہ رب العزت ہم سب کو دشمنوں کے مکر سے نہ صرف محفوظ رکھے گا بلکہ ان کے جال میں انھیں کو پھنسا دیگا اور خوف وبدامنی کو امن وامان میں تبدیل کر دیگا ۔کیونکہ یہ بات اس کتاب میں موجود ہے جس ارد گرد باطل پھٹک بھی نہیں سکتا : ” لَّا یَأۡتِیهِ ٱلۡبَـٰطِلُ مِنۢ بَیۡنِ یَدَیۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهِۦۖ تَنزِیلࣱ مِّنۡ حَكِیمٍ حَمِیدࣲ “. ( فصلت : 42).
” جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے ، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے ( اللہ ) کی طرف سے “.
اور ساتھ ہی اس رب کا کلام ہے جس سے بڑھ کر سچا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں : ” وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقࣰّاۚ وَمَنۡ أَصۡدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِیلࣰا “. ( النساء : 122).
” یہ ہے اللہ کا وعدہ جو سراسر سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیادہ سچا ہو؟ .

Categories Nazam

NO NRC/CAB NAZAM BY MAULANA ABDUL BAR SNANBILI MADNIنا

ہم نقش وفا دل سے مٹانے نہیں دیں گے
صدیوں کی وراثت کو گنوانے نہیں دیں گے

بھارت مِرا دنیا میں ہے جنت کا نمونہ
اس دیش کو ہم نرک بنانے نہیں دیں گے

اشفاق نے بسمل نے جو بلیدان دیا تھا
ضائع کسی قیمت پہ بھی جانے نہیں دیں گے

آزاد کے سپنوں کو بھی ساکار کریں گے
گاندھی کے اصولوں کو بھلانے نہیں دیں گے

یہ کیب (CAB) مبارک ہو تمہیں گدی نشینو !
اس CAB کو ہم ملک میں آنے نہیں دیں گے

منظور نہیں ہم کو یہ تفریق تمھاری
مذہب کو ہم آدھار بنانے نہیں دیں گے

ہم ایک تھے، ہم ایک ہیں، ہم ایک رہیں گے
نفرت کی یہ دیوار اٹھانے نہیں دیں گے

یہ دیش سمجھتا ہے ہر اک چال تمھاری
اب جال نیا کوئی بچھانے نہیں دیں گے

جب آہ نکلتی ہے تو ہل جاتے ہیں ایوان
ہم ظلم تمھیں ملک میں ڈھانے نہیں دیں گے

Categories NazamUncategorized

Qaumi Tarana

قومی ترانہ
ہم بچے ہیے ہندوستانی ہندوستاں ہمارا ہیے
سارے دیشوں سے اپنا یہ دیش بہت ہی پیارا ہیے

سازش جو ناپاک کرے گا اس دھرتی پہ آنے کی
فکر کرے وہ اس دھرتی سے اپنی جان بچانے کی

مار بھگائینگے اس کو یہ پیغام ہمارا ہے
ہم بچے ہے ہندوستانی ہندوستاں ہمارا ہے
سارے دیشوں سے اپنا یہ دیش بہت ہی پیارا ہیے

آنچ نہیں آنے دینگے ہم ملک کے ان نظاروں پر
چاہے چلنا پڑجاۓ ہی شعلوں پر انگاروں پر

ہندوستاں ہمارا ہے یہ آنکھوں کا تارا ہے
ہم بچے ہیے ہندوستانی ہندوستاں ہمارا ہیے
سارے دیشوں سے اپنا یہ دیش بہت ہی پیارا ہیے

حب وطن ہیے اہل وطن سے پیار محبت کی پہچاں
ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں ہیےسب انساں

حب وطن سے خالی جو بھی دل ہو وہ نکارہ ہے
ہم بچے ہیے ہندوستانی ہندوستاں ہمارا ہے
سارے دیشوں سے اپنا یہ دیش بہت ہی پیارا ہیے

کہتی ہے ہم سے آزادی بن جاؤ نہرو گاندھی
مرہون منت ہوں ان کی ابوالکلام کی شہزادی

مستقبل اس دیش کا تم ہو تم ھی ھے اجیارا ہے
تم بچے ہو ہندوستانی ہندوستاں تمہارا ہیے
سارے دیشوں سے اپنا یہ دیش بہت ہی پیارا ہیے

بھول کہ پھر سے کر بیٹھے نہ کوئی دشمن نادانی
پیش کرینگے دیش کی خاطر اپنے لہو کی قربانی

ہاشم جس میں ٹیپو کھیلے وہ میدان ہمارا ہیے
ہم بچے ہیے ہندوستانی ہندوستاں ہمارا ہیے
سارے دیشوں سے اپنا یہ دیش بہت ہی پیارا ہیے
محمد ہاشم سلفی و فیضی
ناظم، ضلعی جمیعت اہلحدیث مغربی چمپارن بہار
ومدرس، مدرسہ منظر العلوم بلیرامپور چمپارن بہار

Categories PersonaltiesUncategorized

THE VIEWS OF DR A.P.J.ABDUL KALAM

  1. Don’t fear for facing failure in the first attempt , because even the successful.Maths starts with ‘Zero’ only.

2. When some one is so sweet to you,don’t expect that person will be like that all the time.Remember,even the sweetest choclate expires.

3. Don’t feel bad, if people remeber you only when they need you.Feel privileged that you are like a candle that comes to their mind when there is darkness .

4 .Forgive others,not because they deserve forgiveness,but because you deserve peace.

5. A meaningful silence is always better than meaning less words.

6. A positive mind finds opportunityin everything. A nagitive mind finds fault in every thing.

7. A mistake is an accident .Cheeting and lying are not mistakes,They are international choices.

8. Umbrella can’t stop the rain but can make us stand in rain.Confidence may not bring success but gives us power to face any challenge in life.

Categories Qur`an

HOLY QURAN

The Qur-an is message of Allah and His speech to mankind and human beings. Which guides us to right path and teaches us Islamic lessons and teachings .There are stories of the former prophets and their followers in it.The Qur’an comprises of 40 verses, 114 surahs .Some surahs are Makkis and others Madnis.If it is in Arabic language but it is translated into various languages in the world. The Holy Qur’an is our law book but Allah gives us rewards on account of reciting, seeing and teaching it.A letter from Qur’an has ten rewards. Our prophet said (الم)is not a word but( أ) is a letter (ل) is a letter and(م) is a letter. The Holy Qur’an is Superior to other scriptures. Hence, every word of the holy Qur’an is in it’s original from. The Holy Qur’an has no addition, subtraction, and changing .The language of the Qur’an and it’s literature are miracle. The Qur’an has brought the final Divine commands and codes. The suit according to the needs of all times, places, conditions. at last my give us power to understand Quran.